حضرت سَیِّدُناشیخ احمد بن ثابت مَغربی عَلیْہ رحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ایک رات خَواب میں میں نے کسی مُنادِی کی نِداسُنی کہ’’جو شخص رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت کرنا چاہتا ہے وہ ہمارے ساتھ آجائے ‘‘ اس کے ساتھ ہی میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ دوڑے آرہے ہیں لہٰذا میں بھی ان کے ساتھ ہولیا۔کچھ دیر چلنے کے بعد میں نے دیکھا کہ سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک بالا خانہ میں جَلوہ اَفروز ہیں میں بائیں طرف کو بڑھاتاکہ دروازہ مل جائے تو لوگوں نے بُلَنْد آواز سے کہا دَروازہ دائیں جانب ہے لہٰذا میں دائیں مُڑا تو دَروازہ مل گیا اور میں داخل ہو گیا ، جب میں قریب ہوا تو میرے اور حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دَرمیان ایک بادل حائل ہوگیا جس کی وَجہ سے میں کسی کا چہرہ نہ دیکھ سکا ۔ میں نے بے ساختہ یہ پڑھنا شروع کر دیا ۔ ’’اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ‘‘اور عرض گزار ہوا:’’ یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا یہی میری عادت نہیں ہے ؟‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’میرے اور تیرے دَرمیان دُنیا کے حجاب (پردے) حائل ہوگئے ہیں ۔‘‘ مجھے سرکار زَجْر (یعنی ڈانٹ ڈپٹ) فرماتے رہے کہ’’ ہم تجھے مَنْع کرتے ہیں کہ دُنیا اور دُنیا کے اِہْتِمام سے باز آجا اور تو باز نہیں آتا۔‘‘ میں نے دل میں سوچا کہ یہ میری شامتِ اَعمال ہی کا نتیجہ ہے ، ساتھ ہی ساتھ میری آنکھیں