بناکر آسمان کی طرف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے دَربار عالی میں بھیجتے ہیں ،وہ فِرِشتے جاکر عرض کرتے ہیں : ’’رَبَّنَا اَتَیْنَا عَلٰی عِبَادٍ مِّنْ عِبَادِکَ یُعَظِّمُوْنَ اٰلَائِکَ وَیَتْلُوْنَ کِتَابَکَ وَ یُصَلُّوْنَ عَلٰی نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ، یعنی یا الٰہ العالمین! ہم تیرے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو تیرے اِنعامات کی تَعْظِیم کرتے ہیں ،تیری کتاب پڑھتے ہیں اور تیرے نبیِّ کریم حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک بھیجتے ہیں ۔‘‘ ’’وَیَسْءَلُوْنَکَ لِاٰخِرَتِہِمْ وَ دُنْیَاہُمْ،اور تجھ سے اپنی آخرت اور دُنیا کے لئے دُعاکرتے ہیں ۔‘‘اس پر اللّٰہ تبارَک وتَعالٰیفرماتا ہے ان کو میری رَحمت سے ڈھانپ دو، (ایک روایت میں ہے کہ اس پر ان میں سے ایک فِرِشتہ عرض کرتا ہے :) ’’فُلاَنٌ لَیْسَ مِنْہُمْ اِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَۃٍ،اے ہمارے ربِّ کریم !اِن میں فُلاں فُلاں شخص شرکائے مَحفِل میں سے نہیں تھا وہ تومَحض کسی کام کی غرض سے آیا ہوا تھا (اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟) اللّٰہتعالیٰ کا دَریائے رَحمت مزید جوش میں آتا ہے ،فرماتا ہے:’’ غَشُّوْہُمْ رَحْمَتِیْ فَہُمُ الْجُلَسَاءُلَایَشْقٰی بِہِمْ جَلِیْسُہُمْ،یعنی ان کو میری رَحمت سے ڈھانپ دو کہ یہ آپس میں مل بیٹھنے والے ایسے لوگ ہیں کہ ان کی صُحبت کی بَرَکت سے ان کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے والا بھی بَد نصیب ومَحروم نہیں رہتا۔‘‘ (درمنثور،پ۲،البقرۃ ،تحت الآیۃ۱۵۲،۱/۳۶۷)
سَبَقَتْ رَحْمَتِیْ عَلٰی غَضَبِیْ تُو نے جب سے سنا دیا یارَبّ!