دُرُود شریف پڑھنا ذِکرِخُداوَنْدیعَزَّوَجَلَّ کی اَفْضل ترین قسموں میں سے ہے۔(اتحاالسادۃ’دۃ المتقین،۵/۲۷۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رَحمت کے قُربان جائیے کہ اس نے اپنے بعض مَعْصُوم فِرِشتوں کو مَحض یہ ذِمَّہ داری سونپ رکھی ہے کہ ذِکر و دُرُود کی مَحفلوں کو تلاش کریں اور ان پر رَحمت کی بَرکھا برسائیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جب کبھی کسی مَحفِل میں بیٹھنے کا اِتِّفاق ہو خَواہ وہ مَحفِل دِینی ہو یا دُنْیوِی اس میں کچھ نہ کچھ ذِکر و دُرُود کی عادت بنائیں تاکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مَعْصُوم فِرِشتے اس پر ہمارے گواہ ہو جائیں اور ہم پر رَحمتِ خُداوَندی کی بارش برسائیں اس ضِمن میں ایک روایت سنئے اور خوشی سے جھوم اُٹھئے ۔ چُنانچہ
رَحمتِ خُداوَنْدی کا جوش
صاحبِ دُرِّ مَنْثورزیرِ آیت’’ فَاذْکُرُوْنِیْ أَذْکُرْکُمْ‘‘(پ۲، البقرۃ:۱۵۲) ایک حدیث پاک نقل کرتے ہیں ، سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالِک و مختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ لِلّٰہِ سَیَّارَۃً مِّنَ الْمَلائِکَۃِ یَطْلُبُوْنَ حَلَقَ الذِّکْرِ‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے کچھ فِرِشتے رُوئے زَمین کی سیر کرتے ہیں اور وہ ذِکر کے حلقوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ۔‘‘فَاِذَا اَتَوْا عَلَیْہَا حَفُّوْا بِہِمْ،جب کبھی کسی حَلقۂ ذِکر پر آتے ہیں تو ان لوگوں کو گھیر لیتے ہیں ۔‘‘پھر اپنے میں سے ایک گُروہ کو قاصِد