Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
160 - 645
مَریض ہوتے ہیں  تو اِن کی عیادت کرتے ہیں  اور اگر ا نہیں   دیکھتے ہیں  توخُوش آمدید کہتے ہیں  ، اگر وہ کوئی حاجت طلب کرتے ہیں  تو فِرِشتے انکی مَدد کرتے ہیں  ، جب وہ بیٹھتے ہیں  تو فِرِشتے ان کے قَدموں  سے لے کر آسمان تک کی جگہ کو گھیر لیتے ہیں  ، ان کے ہاتھوں  میں  چاند ی کے وَرَق اور سونے کی قلمیں  ہوتی ہیں  ، وہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پڑھے جانے والے دُرُود کو لکھتے ہیں  اور یہ آواز دیتے ہیں  کہ زِیادہ ذِکر کرو، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتم پر رَحم فرمائے اور تمہارے اَجر میں  اِضافہ فرمائے۔ جب وہ ذِکر شُروع کرتے ہیں  تو ان کے لیے آسمان کے دَروازے کُھل جاتے ہیں  ، ان کی دُعا قَبول کی جاتی ہے ، خُوبصُورت آنکھوں  والی حُوریں  ان کی طرف جھانکتی ہیں  اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ان پر خُصُوصی رَحمت کی توَجُّہ فرماتا رہتا ہے، جب تک کہ وہ کسی اور کام میں  مَشغُول  نہیں   ہوجاتے۔‘‘(مسند احمد،مسندابی ہریرۃ، ۳  ۳۹۹ حدیث:۹۴۲۴،بستان الواعظین”۲۵۹القول البدیع۲۵۹ الثانی فی ثواب الصلاۃ …الخ، ص۲۵۲)
	ایک اور روایت میں  ہے: ’’جب تک کہ وہ اَہلِ ذِکر حضرات جُدا  نہیں   ہوجاتے اور جب وہ بکھر جاتے ہیں  تو زائرین فِرِشتے ذِکر کی مَحفلوں  کی تلاش شُروع کردیتے ہیں ۔‘‘(القول البدیع، یضاًص۲۵۲ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد