ہے، یہ ایسی تجارت ہے جسے کبھی خَسارہ نہیں ، یہ صُبح و شام اَولیاء کرام کا وَظیفہ ہے۔ اے مخاطب ! تواپنے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ہمیشہ دُرُود پڑھتا رہ، یہ تیری گُمراہی کو پاک کردے گا، تیرا عمل اس کی وَجہ سے سُتھرا ہوجائے گا، اُمید کی شاخ بار آور ہوگی، تیرے دل کا نورجَگمگانے لگے گا، تو اپنے رَبّعَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل کرے گا اورقِیامت کی ہولناکیوں سے مَحفوظ ہوجائے گا۔‘‘(القول البدیع،سبعۃ فصول خاتمۃ باب الثانی، الفصل الاول ، ص ۲۸۳)
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! علَّامہ اُقْلِیْشِیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِی کے کلام سے پتا چلا کہ سرکار عَلَیْہِ السّلام کی ذاتِ بابَرَکات پر دُرُودِ پاک پڑھنا نہ صرف نَفْع بخش تجارت ہے بلکہ عَقائد و اَعمال کی پاکیزگی کا سبب بھی ہے نیز یہ اَولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامکاوَظیفہ بھی ہے ۔ توکس قَدر خُوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں ج نہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی توفیق و کرم سے اس اعلیٰ و اَرفَع عمل کی سَعادت حاصل ہوتی ہے ۔
خوبصورت آنکھوں والی حوریں
حضرتِ سَیِّدُناعُقْبہ بن عامِر رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ مَدینے کے سلطان،رَحمتِ عالمیان، سرورِذیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رَحمت نشان ہے: ’’مَساجِد میں اَوْتاد (اولیاء) ہوتے ہیں جن کے ہم مَجلِس مَلائکہ ہوتے ہیں ۔ اگر وہ غائب ہوتے ہیں تو فِرِشتے ا نہیں تلاش کرتے ہیں ، اگر وہ