Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
153 - 645
 مگر اُسے دُرُود شریف پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اُٹھتے بیٹھتے دُرُود شریف پڑھتا رہتا۔ جب اس کی موت کا وَقت قریب آیا تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ گیا اورمَسْخ ہو کر اس قَدر بھیانک ہوگیا کہ جو دیکھتا خَوفزدہ ہوجاتا۔ اس کسمپرسی کے عالَم میں  اس نے فریاد کی: ’’یاحبیبَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحَبَّت رکھتا ہوں  اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُود و سَلام پڑھتا ہوں ۔‘‘ا بھی اس نے اتنا ہی عرض کیا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک سفید پرندہ اُترا اور اُس نے اپنا پَر اُس شخص کے چہرے پر پھیر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا چہرہ چَمک اُٹھا پھر فَضا مُشکبار ہوگئی اور اس کی زبان پر کلمۂ طَیبہ جاری ہوگیا اور اس کی رُوح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کر گئی۔ جب اس کوقَبر میں  اُتارا جارہا تھا غیب سے یہ آواز آئی:’’ ہم نے اس بندے کوقَبر میں  رکھنے سے پہلے ہی کِفایت کی اور ہمارے محبوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پڑھے ہوئے دُرُود شریف نے اسے قَبر سے اُٹھا کر جَنَّت میں  پہنچا دیا ہے۔‘‘ رات کسی نے خواب میں  یہ منظر دیکھا کہ مرحوم فَضا میں  چل رہا ہے اور اس کی زبان پر یہ آیتِ کریمہ جاری ہے: اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۵۶﴾
 (پ۲۲،الاحزاب:۵۶) ترجمۂ کنز الایمان :’’ بے شک اللّٰہ  اور اُس کے فِرِشتے دُرُود بھیجتے ہیں  اُس غیب بتانے