تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تَکْرِیم وتَعْظِیم میں اِضافہ فرمائے کہ یہی دوصِفات آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دائمی مَحَبَّتاور اس میں تَرقِّی کا سبب ہیں اس لئے کہ یہی وہ بُنیادی عَقیدہ ہے جس کے بغیراِیمان مُکمَّل نہیں ہوسکتا۔‘‘
وَجہ یہ ہے کہ انسان جتنا کثرت سے مَحبوب کا ذِکر کرتااور اس کی خُوبیوں کا تَصوُّر کرتااور کَشِش پیدا کرنے والی باتوں کوتَصوُّر میں لاتاہے ،اس کی مَحَبَّت بڑھ جاتی ہے اور اس کا شَوق زِیادہ ہوجاتاہے اور تمام دل پر اسی کا قَبضَہ ہوجاتا ہے اور دِیدارِ یار سے بڑھ کرچَشمِ مُحِبّ کوٹھنڈا کرنے والی کوئی چیز نہیں اور ذکرِ یار و تَصوّرِ مَحاسِنِ دِلدار سے بڑھ کر کسی شے میں اس کے دل کا سُرُور نہیں ۔ جب یہ دولت اس کے دل میں مَضْبُوطی سے جَم جاتی ہے تو زبان اس کی حمد و ثناء میں مَصرُوف ہو جاتی ہے ۔پس صبح و شام حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود و سلام پڑھنا اس کی عادت ہو جاتی ہے اور وہ ایسی تِجارت سے بَہرہ مند ہو جاتاہے جو کبھی خَسارے سے آشنا نہیں ہوتی اور وہ مشکوٰۃِ نَبُوَّت سے عَظِیْمُ الشَّان انوار حاصل کر لیتا ہے۔(سعادۃ الدارین، الباب الثالث فیماورد عن الانبیاء والعلماء فی فضل الصلاۃ علیہ ،ص ۱۱۱)
سفید پرندہ
دُرَّۃُ النَّاصِحِینمیں ہے، اَمیرُ المؤمنین حضرت ِسَیِّدُنا فارُوقِ اَعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے دورِ خِلافت میں ایک مالدار شخص تھا جس کا کردار اچھا نہیں تھا،