دینِ حق کی شَرط اَوَّل
علَّامہقَسْطَلانی قُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانینے اپنی کتاب مَسَالِکُ الْحُنَفَاء کے شُروع میں حدیثِ انس رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ذِکر کی کہ راحتِ قَلبِ ناشاد،محبوبِ ربُّ الْعِبادصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا اِرشاد عبرت بنیاد ہے:’’لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَیعنی تم میں سے کوئی ایمان دار نہیں ہو سکتایہاں تک کہ میں اس کا مَحبوب تَر نہ ہوجاؤں ،اس کے باپ، بیٹے اور تمام لوگوں سے بڑھ کر۔‘‘اس حدیثِ پاک کے تَحت علَّامہ قَسْطَلانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانینے فرمایا:’’اگر ہمارے جسم کے ایک ایک بال کے نیچے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مَحَبَّت ہو تو یہ بھی اس حق کے جُز کا جُز ہوگا جو ہم پر آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا ہے اور تمہیں معلوم ہے جو جس سیمَحَبَّت کرے اکثر اسی کا ذِکر کرتا ہے ۔‘‘ جیساکہ مُسْندِ فردوس میں حضرت سیِّدتُناعائشہ رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے مروی حدیث ہے :’’پس اہلِ مَحَبَّتکے دل ذِکرِ محبوب کی بناء پر لذَّات سے بیگانہ ہوتے ہیں اور ان کے خیالات خواہشاتِ نفس کی ترغیب دینے والے اُمُور سے خالی ہوتے ہیں اور بِلاشُبہ اَوْلیٰ و اَعلیٰ ، بیش قیمت ، اَفْضَل ، اَکْمل، رخشندہ تر، خوب تر جس کاتم ذِکر کرتے ہو،وہ یہی مَحبوب کریم اور رسولِ عَظِیْم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْمہی توہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے فَضْلِ عَمِیْم سے آپ صَلَّی اللّٰہُ