مگر یاد رہے کہ جب بھی حُضُور پر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود شریف پڑھا جائے، مَحَبَّت و شوق کے ساتھ پڑھا جائے کیونکہ دُرَّۃُ النَّاصِحین میں ہے’’ ثَلٰثَۃُ اَشْیَائٍ لَا تَزِنُ عِنْدَاللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ ،یعنی تین چیزیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نَزدیک مچھر کے پَر کے برابر بھی وَزْن نہیں رکھتیں ،اَحَدُھَاالصَّلٰوۃُ بِغَیْرِ خُضُوْعٍ وَّ خُشُوْعٍ ، ان میں سے ایک یہ کہ نمازخُشُوع و خُضُوع کے بغیر پڑھی جائے ،وَالثَّانِیَ الذِّکْرُ بِالْغَفْلَۃِ لِاَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَایَسْتَجِیْبُ دُعَاءَ قَلْبٍ غَافِلٍ،دوسری یہ کہ ذِکر، غَفْلَت کے ساتھ کیا جائے ،کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّدلِ غافِل کی دُعاقَبُول نہیں فرماتا ،وَالثَّالِثُ الصَّلٰوۃُ عَلَی النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مِنْ غَیْرِ حُرْمَۃٍ وَّنِیَۃٍاور تیسری یہ کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بِلا تَعْظِیم و بِلا نِیَّت دُرُودِ پاک پڑھنا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حق تو یہ ہے کہ مَحَبَّتِ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَحض دُرُودِ پاک کے لئے ہی نہیں بلکہ ہمارے اِیمان کے لئے بھی شَرط ہے اس کے بغیر تو ہمارا اِیمان بھی رائیگاں ہے ۔چُنانچہ
مَطَالِعُ الْمَسَرَّاتشَرْحُ دَلَائِلِ الْخَیْرَات میں ہے:’’ اصلِ ایمان کے لئے اصلِمَحَبَّت شَرط ہے اور کمالِ ایما ن کے لئے( نَبِیِّ مُعَظَّم ، رَسُولِ مُحتَرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ) کمالِ مَحَبَّت شرط ہے۔‘‘ (مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات مترجم، ص ۱۴۸)