مُبارک ہَسْتی کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات ِوالا صِفات ہی توہے ۔ توکیوں نہ ہو کہ ایسی عَظِیْم ہَسْتی پر دُرُودِ پاک کی کثرت کر کے ہم بھی دُنیاو آخرت کی دِیگر سَعادَتوں کے ساتھ ساتھ روزِ قِیامت ان کی قُربت کے حَقْدار ہوجائیں ۔
عزیز بچے کو ماں جس طرح تَلاش کرے قَسم خُداکی یہی حال آپ کا ہوگا
کہیں گے اَور نبی اِذْھَبُو اِلٰی غَیْرِی میرے حُضُورکے لب پر اَنَالَھَاہوگا (ذوقِ نعت،ص ۳۵)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں قِیامت کی ہولناکیوں اور دُشوار گزار گھاٹیوں سے نَجات عطافرمائے اورقِیامت کے دن شفیعِ روزِ شُمار، حبیبِ پَرْوَرْدَگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاقُربِ خاص اور جَنَّتُ الْفِردوس میں ان کا پَڑوس عطافرمائے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭…٭…٭…٭…٭…٭
فرمانِ مُصْطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی شَخْص کیلئے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بِغیر جُدائی کردے( یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے ) ۔
(ابوداوٗد، ۴/۴۸، حدیث: ۴۸۴۵)