وہ شخص ہوگاجس نے مجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھے ہونگے۔‘‘(دلائل الخیرات، ص ۸)
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!اس حدیث پاک میں کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے والوں کے لئے کیسی عَظِیمُ الشَّان بِشارت ہے کہ ا نہیں قِیامت کے دن سیّدُالمُرسَلِین،جنابِ رحمۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاقُرب نصیب ہوگا ۔
قیامت کے دن کے بارے میں سُورۃُالْمَعارِج کی آیت نمبر 4میں ارشاد ہوتا ہے: ’’ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ،ترجمۂ کنزالایمان:جس کی مقدار پچاس ہزاربرس ہے) اس دن سُورج سَوامیل پر رہ کر آگ برسارہا ہوگاتانبے کی دَہَکتْی ہوئی زَمین ہوگی قرآنِ پاک میں سورۂ عَبَسَ کی آیت 34تا36 میں ارشاد ہوتاہے :’’ یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیۡہِ ﴿ۙ۳۴﴾
وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیۡہِ ﴿ۙ۳۵﴾ وَ صَاحِبَتِہٖ وَ بَنِیۡہِ ﴿ؕ۳۶﴾ ترجمۂ کنزالایمان:اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھا ئی اور ماں اور باپ اور جورُو(بیوی) اور بیٹوں سے )،ایسے کڑے حالات میں کہ جب کوئی پُرسانِ حال نہ ہوگا،تمام اَنبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلامکی طرف سے بھی اِذْھَبَوْااِلٰی غَیْرِیْ (کسی اورکے پاس جاؤ) کاجَواب ملے گا، ایسے کڑے وَقت میں ایک ہی ایسی ہَسْتی ہوگی جوہم گُناہ گاروں کی یاس کو آس میں بَدل دے گی ، ہماری ٹُوٹی اُمیدوں کا سَہارا ہوگی، جس کے لَبوں پر اَنَالَھَا(شَفاعَت کے لئے میں ہوں ) کی صدائیں ہونگیں ،جی ہاں !وہ