Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
146 - 645
کرنے کے بجائے اُٹھتے بیٹھتے ،چلتے پھرتے ہروَقت حُضُور کی ذاتِ بابَرَکات کے ذِکرخَیر سے اپنی زبانیں  تَررکھیں  کیونکہ یہ دُنیاو آخرت کی سَعادت کے ساتھ ساتھ مَحَبَّت کی عَلامت بھی ہے جیساکہ حدیث پاک میں  ہے مَنْ اَحَبَّ شَیْئاً اَکْثَر َذِکْرَہ،  (یعنی انسان جس سے مَحَبَّت کرتا ہے اس کا ذِکر کثرت سے کرتا ہے)
ذِکر و دُرُود ہر گھڑی وِرْدِ زباں  رہے
میری فُضُول گوئی کی عادَت نکال دو	 (وسائلِ بخشش ،ص۲۹۰)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں  چاہئے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مَحَبَّترکھیں اوربتقاضائے مَحَبَّت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر کثرت سے دُرُود ِپاک پڑھیں ،کوئی بعید  نہیں   کہ دُرُود ِپاک کی بَرَکت سے روزِ  قِیامت سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرب نصیب ہوجائے۔ جیساکہ 
قُرْبِ خاص
	حضرت سیِّدُ ناابُوعبدُاللّٰہ محمد بن سلیمان جَزُوْلی علیہ رَحمۃُ اللّٰہِ الْقَوی اپنے مایہ نازو مشہورِ زمانہ مَجمُوعۂ دُرُودو سَلام ’’دَلائلُ الْخَیْرَات‘‘میں  ایک حدیث پاک نقل کرتے ہیں  کہ شہنشاہِ خُوش خِصال، پیکرِ حُسن وجَمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ تَقرُّب نشان ہے:’’ اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَکْثَرُہُمْ عَلَیَّ صَلٰوۃً،یعنی قِیامت کے دِن لوگوں  میں  سے میرے سب سے زِیادہ قَریب