ہے، دَسواں سانپ سے اس کی حِفاظَت کرتاہے کہ کہیں اس کے مُنہ میں داخل نہ ہو جائے یعنی جب وہ سویا ہوا ہو۔‘‘
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ 360 فِرِشتے ہیں ، زَمین وآسمان میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جو ان فِرِشتوں سے مَعْمور نہ ہو جن کی صِفَت ہے۔ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآاَمَرَہُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ترجمۂ کنزالایمان: (جو اللّٰہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو ا نہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں ۔) (پ۲۸،التحریم:۶)(سعادۃ الدارین،ایضاً، ص۶۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردَہ رِوایات سے معلوم ہوا کہ بیشمار فِرِشتے ہَمہ وَقت سرکار ِدوعالم صلّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّمکی بارگاہ میں دُرُود و سَلام پیش کرتے رہتے ہیں اور غور طلب بات تویہ ہے کہ اِن مَذکورہ رِوایات میں بلکہ آیتِ کریمہ میں بھی کسی وَقت ،حالت اور دُرُودپاک کے اَلفاظ کی تَخْصِیْص و تَعْیِیْن کے بغیر مُطلقاً دُرُودِ پاک پڑھنے کا ذِکر ہے لہٰذا اگر شیطان یہ وَسْوَسہ ِدلائے کہ فُلاں وَقت میں دُرُودِ پاک نہیں پڑھنا چاہئے یا فُلاں حالت میں پڑھنا مَنْع ہے یافُلاں فُلاں دُرُودِ پاک نہیں پڑھناچاہئے تویہ شَیْطانی وَسْوَسے قُرآن و حدیث کے مُطلَق مَفْہُوم کے خِلاف ہیں ایسے کسی بھی وَسْوَسے کو ذِہن میں جگہ دے کر دُرُودِ پاک جیسے عَظِیْم فعل سے مَحروم ہونے کے بجائے عِشْق ومَحَبَّت کا دامن تھامتے ہوئے اپنے قیمتی اَوقات فُضُولیات میں برباد