اور کچھ اس عَورت پر لعنت کرنے کے لئے ہیں جو اپنے خاوَند کا بِستر چھوڑ کر غیر کے پاس جاتی ہے ،اس کے علاوہ بھی کئی فِرِشتوں کا ذِکر ملتا ہے جن کے مُتعلِّق اَحادِیث وارِدہیں ۔(سعادۃ الدارین،الباب الاول فی تفسیرآیۃاِنَّ اللّٰہ وملائکتۃیُصلُّون…الخ ، ص۶۹)
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!اس ساری گُفْتگُو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کچھ فِرِشتوں کو اس کام پر مامُور کررکھاہے کہ جب ہم آقائے نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردُرُودِ پاک پڑھیں تو وہ ہمارا دُرُود سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں پہنچائیں بلکہ ایک رِوایت میں تو یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بعض فِرِشتوں کی مَحض یہ ذِمَّہ داری ہے کہ وہ ہمارے مُنہ سے نکلا ہوا دُرُودمَحفُوظ کر لیتے ہیں ۔چُنانچہ
حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اِن فِرِشتوں کی تعداد پوچھی جو انسان پرمُتَعَیَّ نہیں، آپ نے اِرشاد فرمایا : ’’ہر آدمی پر رات کو دس فِرِشتے اور دن کو دس فِرِشتے مُتَعَیَّن ہوتے ہیں ۔ ایک دائیں جانِب ،ایک بائیں جانِب ،دو آگے پیچھے ،دو اس کے ہونٹوں پر جو صِرف محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر پڑھا جانے والا دُرُودمَحفوظ کرتے ہیں ، دو پَیشانی پراور ایک اس کی پَیشانی کے بالوں کو پکڑے ہوئے ہے اگر وہ تَواضُع کرتا ہے تو وہ اُسے بُلَنْد کرتا ہے اواگر تَکَبُّرکرتا ہے تو وہ اُسے جُھکا دیتا