فِرِشتوں وغیرہ کے دُرُود بھیجنے کا مَعنی مزید ثنا وعَظْمَت کا مُطالَبہ کرنا ہے۔ ‘‘(فتح الباری،کتاب‚ الدعوات ،باب الصلوۃ علی النبی ،۱۲ /۱۳۱،تحت الحدیث:۶۳۵۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آیتِ کریمہ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بے شُمار فِرِشتے بھی ہمارے آقا و مولیٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودِ پاک پڑھنے میں مشغول ہیں ۔ملائکہ(یعنی فرشتے) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی نُوری مَخلوق ہیں ان کی تعدادسِوائے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے کوئی شُمار نہیں کرسکتا،(یہ ملائکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے مختلف کا موں پر مامُور ہیں ۔)
سَعَادَۃُ الدَّارَیْنمیں ہے :’’کچھ مَلائکہ مُقرِّبین ہیں ،کچھ حامِلینِ عرش ہیں ، کچھ ساتوں آسمانوں میں رہنے والے ہیں ،کچھ جَنَّت کے پہرے دار ، کچھ دَوزخ کے دَروغے اور کئی بنی آدم کے اَعمال کومَحفُوظ کرنے والے ہیں جیسے ارشاد ہے’’ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِاللّٰہِ کہ بحکم خدا اس کی حِفاظت کرتے ہیں ‘‘کئی سمندروں ، پہاڑوں ، بادلوں،بارشوں،رِحْموں،نُطْفوں ، اورصُورَتیں بنانے کے کام کے مُؤکِّل ہیں ، کچھ جسموں میں رُوح پھونکنے ،نَباتات کو پیدا کرنے ہواؤں کو چلانے ، اَفلاک و نُجوم کو چلانے پر مامُورہیں ،کچھ رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ہمارے دُرُود کو پہنچانے ،نمازِ جُمُعہ کے لئے آنے والوں کو لکھنے ، نمازیوں کی قراء ت پر آمین کہنے پر مَصْرُوف ہیں ،کچھ صِرف رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْد کہنے والے ہیں ،کچھ نماز کے مُنْتَظِرِیْن کے لئے دُعا کرنے والے ہیں