بھی کرو۔ چنانچہ پارہ 22سورۃالاحزاب آیت نمبر 56میں ارشاد ِربانی ہے:
اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۵۶﴾ ( پ۲۲،الاحزاب:۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک اللّٰہ اور اُس کے فِرشتے دُرُود بھیجتے ہیں ، اُس غیب بتانے والے (نبی) پر۔ اے ایمان والو اُن پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
توکس قَدر خُوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی جو اپنے اوَقات دیگر عِبادات کے ساتھ ساتھ ایسے عَظِیْم کا م میں صَرف کرتے ہیں جوکام اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے بے شُمارمعصوم فِرِشتے بھی کر رہے ہیں ۔مگر یہ بات بھی ذِہن نشین ہونی چاہئے کہ کام تو سب ایک ہی کررہے ہیں مگر اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے فِرِشتوں اور اس کے بندوں کے دُرُود بھیجنے کا مَطلب علیحدہ علیحدہ ہے ۔ یعنی اللّٰہ تعالیٰ کے دُرُود بھیجنے کا مَطلب اپنے مَحبوب کی ثناء وعَظْمَت بیان کرنا ہے اور فِرِشتوں اور بندوں کے دُرُود بھیجنے کا مَطلب ثناء وعَظْمَت طلب کرنا ہے ۔چُنانچہ
حضرتعلَّامہ ابنِ حجر عَسْقَلانی قُدِّ سَ سِرُّہُ النُّورانیلَفْظِ ’’صلاۃ‘‘کے مَعانی بیان کرتے ہوئے ابُو العالیہ کے حوالے سے سب سے راجح قول ذِکر کرتے ہیں : ’’اللّٰہ تعالیٰ کے اپنے نبی پر دُرُود بھیجنے کا مَعنی ان کی ثنا وعَظْمَت بیان کرنا ہے اور