Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
141 - 645
 نے اپنا مُبارک ہاتھ میری والدہ کے چہرے اور پیٹ پر پھیرا توچہرہ سفید اور وَرم دُور ہوگیا، پھر وہ جانے لگے تو میں  اُن کے دامن سے لپٹ گیا اور پوچھا :آپ کون ہیں  جنہوں  نے میری پریشانی کو دُور کردیا؟ اُنہوں  نے فرمایا :’’میں  تیرا نبی محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہوں  ۔ ‘‘ میں  نے عرض کی: یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے کوئی نَصیحت فرمائیے، توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ تم دَم بَدم یُوں  دُرُودِ پا ک پڑھو اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ۔‘‘ (القول البدیع ،الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ ،ص۴۴۶)
خزاں  کا سخت پہرا ہے غموں  کا گُھپ اندھیرا ہے 		ذراسا مسکرا دو گے تو دل میں  روشنی ہوگی
اگر وہ چاند سے چہرے کو چمکاتے ہوئے آئے		غموں  کی شام بھی صبحِ بہاراں  بن گئی ہوگی
       تڑپ کر غم کے مارو تم پکارو یا رسولَ اللّٰہ 		
تمہاری ہر مُصیبت دیکھنا دَم میں  ٹَلی ہوگی                                   (وسائل بخشش،ص۲۷۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُرُودِپاک اِنتہائی اَہمیَّت کا حامل ہے اس کی اَہمیَّت وعَظْمَت کا انداز ہ اس بات سے بَخُوبی لگایا جاسکتا ہے کہ خُودخالِق اَرض و سَما، مالک دو جہاں  عَزَّوَجَلَّ ہمیں  اس عمل کا حکم ارشاد فرمانے سے پہلے تر غیب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ کام میں  اور میرے (معصوم)فِرِشتے بھی کر تے ہیں  تم