Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
140 - 645
ہے۔ ‘‘نوجوان نے کہا: آپ نے کماحقُّہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مَعْرِفَت حاصل  نہیں   کی ۔ اس پر میں  نے اس سے پوچھا:تم نے مَعْرِفَت کیسے حاصل کی؟وہ نوجوان بولا: میں  نے غَمی و پریشانی کے خَتم ہونے اور اِرادوں  کے ٹوٹنے کے ذَرِیعے اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی مَعْرِفَتحاصل کی ہے اس لیے کہ جب میں  پریشانی کے عالَم میں  ہوتا ہوں  تو وہ میری پریشانی کو دُور فرما دیتاہے اور جب میں  کوئی اِرادہ کرتا ہوں  تو وہ میرے اِرادے کو توڑ دیتا ہے جس سے میں  نے جان لیا کہ بیشک میرا رَبّ عَزَّوَجَلَّ ہے جو میرے کاموں  کی تَدْبیر فرماتا ہے۔میں  نے پوچھا کہ تم نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر کثرت سے دُرُودِ پاک کیوں  پڑھ رہے ہو؟وہ بولا: ’’ بات دَرْاَصل یہ ہے کہ میں  حج کررہا تھا، میری والدہ بھی میرے ساتھ تھیں ، اُنہوں  نے مجھ سے کہا: مجھے بَیْتُ اللّٰہ شریف میں  لے چلو، میں  ا نہیں   بَیْتُ اللّٰہشریف لے گیا، اچانک وہ گر پڑیں  جس کی وَجہ سے ان کا پیٹ سُوج گیا اور چہرے پر سیاہی چھا گئی۔ میں  ان کے پاس غَمزدہ بیٹھ گیا، آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھائے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  اپنی فریاد کی: ’’اے میرے پَرْوَرْدَگار عَزَّوَجَلَّ! تو اپنے گھرمیں  داخل ہونے والے کے ساتھ ایسا معاملہ فرمائے گا؟‘‘ اچانک کوہِ ِتہامہ کی طرف سے ایک بادل اُٹھا، اس میں  سے سفید کپڑوں  میں  ملبوس ایک شَخصیت نُمُودار ہوئی،وہ بَیْتُ اللّٰہشریف میں  داخل ہوئے ، اُنہوں