جن کا نام محمدتھاانہوں نے مجھے وَصِیَّت کی تھی کہ جب میرا اِنتقال ہوجائے اور مجھے غُسل دے لیا جائے تو چَھت سے میرے کَفن پر ایک سَبز رنگ کا رُقعہ گرے گا جس میں لکھا ہوگا ’’ھٰذِہٖ بَرَاءَ ۃُ مُحَمَّدِنِ العَالِمِ بِعِلْمِہٖ مِنَ النَّار یعنی محمدجو عالمِ ہے اس کو اِس کے علم کے سبب جہنم سے چھٹکارا مل گیا ہے۔‘‘اُس رُقعے کو میرے کَفن میں رکھ دینا ۔ ‘‘چُنانچہ غُسل کے بعد رُقعہ گِرا ،جب لوگوں نے رُقعہ پڑھ لیا تو میں نے اسے اِن کے سینے پررکھ دیا ۔اُس رُقعے میں ایک خاص بات یہ تھی کہ جس طرح اسے صفحہ کے اوپر سے پڑھاجاتا تھااسی طرح صفحہ کے پیچھے سے بھی پڑھا جاتا تھا۔ میں نے اپنی والدئہ ماجدہ سے پوچھا کہ نانا جان کا عمل کیا تھا؟ اَمّی جان نے فرمایا: ’’ کَانَ اَکْثَرُ عَمَلِہٖ دَوَامُ الذِّکْرِمَعَ کَثْرَۃِ الصَّلٰوۃِ عَلَی النَّبِی، یعنی اُن کا یہ عمل تھاکہ وہ ہمیشہ ذِکرُاللّٰہ کرنے کے ساتھ ساتھ دُرُودِپاک کی کثرت بھی کیا کرتے تھے۔ ‘‘ (سعادَۃ الدارین، الباب الرابع ،اللطیفۃ السادسۃ التسعون، ص۱۵۲ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں حَیاتِ انبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام کے بارے میں اِسلامی عَقیدہ اِختیار کرنے اور ذِکر و دُرُود کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭…٭…٭…٭…٭…٭