Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
136 - 645
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ  اَہلسُنَّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن نے حَیاتِ اَنبیائعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السّلامکے اسلامی عَقیدے کو اپنے ایک کلام میں  اِنتہائی پیارے اَنداز میں  بیان کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں  :
اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے 		مگر ایسی کہ فَقَط آنی ہے
پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حَیات		مِثلِ سابق وہی جسمانی ہے
رُوح تو سب کی ہے زِندہ ان کا		جسمِ پُر نور بھی رُوحانی ہے
اوروں  کی رُوح ہو کتنی ہی لطیف		اُن کے اَجسام کی کب ثانی ہے
پاؤں  جس خاک پہ رکھ دیں  وہ بھی	رُوح ہے پاک ہے نُورانی ہے
اُس کی اَزواج کو جائز ہے نکاح		اُس کا  تَرْکَہ بٹے جو فانی ہے
            یہ ہیں  حَیِّ اَبَدِی اِن کورضاؔ		   صِدقِ وعدہ کی قضا مانی ہے
 (حدائقِ بخشش،ص۳۷۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جَنَّت کا پَروانہ
	حضرت سَیِّدمحمد کُردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْقَوِیارشاد فرماتے ہیں  :’’میری والدئہ مَاجدہ نے خبر دی کہ میرے والدِ ماجد (یعنی حضرت سیِّد محمد کُردی کے نانا جان)