الْمَقَامَاتِ، یعنی حُضُورصلَّی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ واٰلہٖ وسَلَّم زِندہ ہیں ،آپ پر روزی پیش کی جاتی ہے، ساری لذَّت والی چیزوں کا مزہ اورعِبادتوں کا سُرور پاتے ہیں لیکن جو لوگ بُلَنْد دَرَجوں تک پہنچنے سے قاصِر ہیں ان کی نِگاہوں سے اوجھل ہیں ۔( نور الایضاح مع مراقی الفلاح،ص۳۸۰ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رَئیسُ الْمُحَدِّثِینحضرتِ مُلاّ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْباری فرماتے ہیں : ’’ فلَاَ فَرْقَ لَہُمْ فِی الْحَالَیْنِ وَلِذَا قِیْلَ اَولیاء اللّٰہِ لَایَمُوْتُوْنَ وَلٰکِنْ یَّنْتَقِلُوْنَ مِنْ دَارٍ اِلٰی دَارٍ،یعنی اَنبیائے کرامعَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام کی قبلِ وصال اور بعدِ وصال کی زِندگی میں کوئی فرق نہیں ۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ محبوبانِ خدا مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہوجاتے ہیں ۔‘‘(مرقاۃ،کتاب الصلاۃ ،باب الجمعۃ،۳/ ۴۵۹ ،تحت الحدیث:۱۳۶۶)
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں :’’ لِاَ نَّہٗ حَیٌّ یُرْزَقُ وَیُسْتَمَدُّ مِنْہُ الْمَدَدُ الْمُطْلَقُ،یعنی بیشک حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزِندہ ہیں ،آپ کو روزی پیش کی جاتی ہے اور آپ سے ہر قسم کی مَدد طلب کی جاتی ہے۔‘‘ (مرقاۃ،کتاب المناسک،باب حرم المدینۃحرسہااللّٰہ تعالٰی،۵/۶۳۲،تحت الحدیث:۲۷۵۶)
مانگیں گے مانگے جائیں گے مُنہ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ ’’لاَ ‘‘ہے نہ حاجت ’’اگر ‘‘کی ہے (حدائقِ بخشش،ص۲۲۵)