ایک قَدم ظاہر ہوا۔ اس پر لوگ گھبراگئے اور اُنھوں نے گُمان کیاکہ شاید یہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قَدم شریف ہے ا ور وہاں کوئی جاننے والا نہ ملاتو حضرتِسَیِّدُنا عُروہ بن زُبیررَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ وَاللّٰہِ مَا ہِیَ قَدَمُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ہِیَ اِلَّا قَدَمُ عُمَر ،یعنی خدا کی قسم!یہحُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قَدم شریف نہیں بلکہ یہ حضرتِ سَیِّدُنا عُمرفارُوق رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا قَدم مبارک ہے۔ (بخاری، کتاب الجنائز،باب ماجاء فی قبر النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وابی بکر وعمر،۱/ ۴۶۹،حدیث:۱۳۹۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ وصال کے تقریباً 64برس کے بعد بھی حضرت سَیِّدُناعمر فاروق رضی اللّٰہ تعالی عنہ کا جسمِ مبارک سَلامت تھااور اس میں کسی قِسم کی تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَنبیائے کرامعَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام کی بَرزخی زِندگی ہماری بَرزخی زِندگیوں کی طرح نہیں بس فرق صِرف اتنا ہے کہ وہ ہم جیسے لوگوں کی نِگاہوں سے اوجھل ہیں ۔جیساکہ حضرت سَیِّدُنا شیخ حَسن شُرُنْبُلالیعَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہ الْوَالِی تَحریر فرماتے ہیں :’’یعنی یہ بات اَربابِ تحقیق کے نزدیک ثابت ہے کہ اَنَّہٗٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیٌّ یُرْزَقُ مُمَتِّعٌ بِجَمِیْعِ الْمَلَاذِّ وَ الْعِبَادَاتِ غَیْرَ اَنَّہٗ حَجَبَ عَنْ اَبْصَارِ الْقَاصِرِیْنَ عَنْ شَرِیْفِ