Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
133 - 645
سے ا نہیں   دیکھتے ہیں  اسی لئے آپ حُجرئہ مُبارکہ میں  داخل ہونے سے پہلے پردہ فرمالیا کرتی تھیں  ۔
	مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں  :’’اس حدیثِ پاک سے بہت سے مسائل معلوم ہو سکتے ہیں  ایک یہ کہ مَیِّت کا بعدِ وفات اِحتِرام (کرنا)چاہئے، فقہاء فرماتے ہیں  کہ مَیِّت کا ایسا ہی اِحتِرام کرے جیسا کہ اس کی زِندگی میں  کرتا تھا دوسرے یہ کہ بُزُرگوں  کی قُبُور کا بھی اِحتِرام اور ان سے بھی شَرم و حیا چاہئے تیسرے یہ کہ مَیِّت قَبر کے اندر سے باہر والوں  کو دیکھتا اور ا نہیں   جانتا پہچانتا ہے دیکھو حضرتِ عُمر(رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے عائشہ صدیقہ (رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا) ان کی وفات کے بعد شرم و حیا فرمارہی ہیں  اگر آپ باہر کی کوئی چیز نہ دیکھتے تو اس حیا فرمانے کے کیا معنی ۔‘‘(مراٰۃ ، ۲/۵۲۷)
	امیرالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عُمر فارُوق رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بعدِ وصال حیات اور مَزار میں  جسمِ مبارک کے سَلامت ہونے پر بُخاری شریف کی یہ روایت بھی دلیل ہے ۔ چُنانچہ حضرت سَیِّدُناعُروہ بن زُبیررَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ خلیفہ وَلید بن عبدالمَلک کے زمانے میں  جب رَوضئہ مُنوَّرہ کی دِیوار گرگئی اور لوگوں  نے (87ھ میں  )اسکی تَعْمِیر شروع کی تو(بنیاد کھودتے وقت )