میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرتسَیِّدَتُنَاعائشہ صدیقہرضی اللّٰہ تعالی عنہاکا بھی یہی عقیدہ تھا کہ بعدِ وصال نہ صرف پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بلکہ حضرتِ سَیِّدُنا عُمر فارُوق رَضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہ بھی نہ صِر ف حیات ہیں بلکہ زائرین کو مُلاحَظہ بھی فرماتے ہیں۔چُنانچہ
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا ارشاد فرماتی ہیں :’’کُنْتُ اَدْخُلُ بَیْتِی الَّذِیْ دُفِنَ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَاَبِیْ یعنی جب میں اس حُجرئہ مُبارکہ میں داخل ہوتی جہاں سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور میرے والد(حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدِّیقرَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)مدفون ہیں ۔ ‘‘ فَاَضَعُ ثَوْبِیْ وَاَقُوْلُ اِنَّمَا ہُوَ زَوْجِیْ وَاَبِی،یعنی تومیں پردے کا کپڑا اُتار دیتی تھی اورکہتی تھی: یہاں تو صِرف میرے سرتاج اور والد ہیں (جن سے پردہ ضروری نہیں ہوتا) ’’فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَہُمْ فَوَاللّٰہِ مَا دَخَلْتُ اِلَّا وَاَنَا مَشْدُوْدَۃٌ عَلَیَّ ثِیَابِیْ حَیَاءً مِّنْ عُمَرَ،لیکن جب وہاں ان کے ساتھ حضرتِ عُمر رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی مَدفون ہوگئے تو میں حضرت عُمر رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے حیا کے باعث مکمل حجاب میں داخل ہوتی تھی ۔(مسند احمد ،مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا،۱۰/۱۲،حدیث:۲۵۷۱۸ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ روایت اس بات پر دلیل ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدِّیقہرَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو اس بات میں کوئی شک نہ تھا کہ حضرت سَیِّدُنا عُمر فارُوق رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وصالِ ظاہری کے بعد بھی زِندہ ہیں اور اپنی قَبر