حاضِر ہوئے اور قبرِ انور کے سامنے کھڑے ہوئے تو یہ دو شعر پڑھے:
فِیْ حَالَۃِ الْبُعْدِ رُوْحِیْ کُنْتُ اُرْسِلُہَا تُقَبِّلُ الْاَرْضَ عَنِّی وَہِیَ نَائِبَتِیْ
میں دُوری کی حالت میں اپنی رُوح کو خِدمتِ مُبارکہ میں بھیجاکرتا تھاجو میری نائب بن کر آستانۂ مُبارکہ کو چُوما کرتی تھی۔
وَہٰذِہٖ دَوْلَۃُ الْاَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ فَامْدُدْ یَمِیْنَکَ کَیْ تَحْظٰی بِہَا شَفَتِی
اب جسم کی حاضری کا وَقت آیا لہٰذا اپنا دَستِ اَقدس لائیے تاکہ میرے ہونٹ ان کا بوسہ لے سکیں ۔
فخَرَجَتِ الْیَدُ الشَّرِیْفَۃُ مِنَ الْقَبْرِ الشَّرِیْفِ فَقَبَّلَہَااس عرض پر سرکارِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دَستِ انور کو قبرِ مُنوَّر سے باہر نکالا اور حضرت سَیِّد احمد کبیر رفاعی نے اسے بوسہ دیا ۔ (الحاوی للفتاوی،کتاب البعث،تنویرالحلک فی امکان رؤیۃ النبی …الخ، ۲/۳۱۴)
اس وَقت مسجدِ نَبوی میں کئی ہزار اَفراد موجود تھے جنہوں نے دستِ اَقدس کی زِیارت کی۔ (خطباتِ محرم، ص۶۵)
تُو زِندہ ہے واللّٰہ تُو زِندہ ہے واللّٰہ
مری چشمِ عالَم سے چُھپ جانے والے (حدائقِ بخشش،ص۱۵۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد