(5)ہماری موت کے بعد ہمیں عام مسلمانوں کے قَبرِستان میں دَفن کیا جائے گا جبکہ سرکارِ دوعالَم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسَلَّم کی تَدْفین اسی مَقام پر کی گئی جہاں وصالِ ظاہری فرمایا تھا۔
(6)ہماری موت کے بعد ہماری مِیراث تَقسیم ہوتی ہے جبکہ حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے مُسْتَثْنٰی ہیں ۔
(7)ہماری موت کے بعد ہماری بیویاں عِدَّت گُزار کر کسی اور سے نِکاح کرسکتی ہیں جبکہ حُضُورِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اَزْواج کیلئے ایسا کرنا جائز نہیں ۔ (مقالاتِ کاظمی ،ج ۲، ص ۹۵ملخصاً)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے پیارے آقاصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نہ صِرف حیات ہیں بلکہ خُوش نصیبوں کو اپنی زِیارت اور دَسْت بوسی کی سَعادت بھی عطا فرماتے ہیں ۔چُنانچہ
دَسْتْ بوسی کا شَرَف
حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکافِیْ تَحریر فرماتے ہیں :’’حضرت سَیِّد احمد کبیررَفاعی عَلَیْہ رَحمۃُاللّٰہ الْقَوی جو مشہور بُزُرگ اور اَکابر صُوفیہ میں سے ہیں ان کا واقعہ مشہور ہے کہ جب وہ 555ھ میں حج سے فارغ ہوکر سرکارِ اعظمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت کیلئے مَدینہ طیبہ