(1)سَیِّد ِعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِختیار حاصل تھا کہ دُنیا میں رہیں یا رفیقِ اَعلی کے پاس تشریف لے جائیں (بخاری شریف) لیکن ہمیں دُنیا میں رہنے یا آخرت کی طَرف جانے میں کوئی اِختیار نہیں ہوتا بلکہ ہم موت کے وَقت سفرِ آخرت پرمجبور ہوجاتے ہیں ۔
(2)غُسل کے وقت ہمارے کپڑے اُتارے جاتے ہیں لیکن رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ا نہیں مُبارک کپڑوں میں غُسل دیا گیا جن میں وصالِ ظاہری فرمایا تھا۔
(3)سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نمازِ جنازہ ہماری طرح نہیں پڑھی گئی بلکہ مَلائکہ کرام، اَہلِ بیتِ عِظام اور حضراتِ صحابہ رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنْھُم اَجْمَعین نے جماعت کے بغیر الگ الگحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نماز پڑھی اور اس نماز میں معروف دُعائیں بھی نہیں پڑھی گئیں بلکہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تَعریف وتَوصِیف کے کَلِمات عرض کئے گئے اور دُرُود شریف پڑھا گیا ۔
(4)ہماری موت کے بعد جلدی دَفن کرنے کا تاکیدی حکم ہے لیکن سرکارِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصالِ ظاہری کے بعد سخت گرمی کے زمانے میں پورے دو دن کے بعد قبرِ اَنور میں دَفن کئے گئے۔