میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!وِصالِ ظاہری فرمانے کے بعداَنبیائے کرام عَلَیْھمُ الصَّلٰوۃ والسَّلامکا زِندہ ہونا مُتَعَدَّداَحادیثِ مُبارکہ سے ثابت ہے ۔ نیز یہ حضرات اپنے مَزارات میں نَماز بھی پڑھتے ہیں ۔چُنانچہ رَحمتِ عالَم، نور ِ مُجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’اَ لْاَنْبِیَاءُ أَحْیَاءٌ فِیْ قُبُوْرِ ہِمْ یُصَلُّوْنیعنی اَنبیائے کرام عَلَیھِمُ الصَّلٰوۃُ والسَّلام اپنی اپنی قَبروں میں زِندہ ہیں اورنَماز بھی پڑھتے ہیں ۔‘‘(مسند ابی یعلی،مسند انس بن مالک ،۳ /۲۱۶،حدیث:۳۴۱۲)
ایک اور حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا گیا:’’مَرَرْتُ عَلَی مُوسٰی لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ عِنْدَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ وَہُوَ قَائِمٌ یُّصَلِّی فِی قَبْرِہٖ،یعنی مِعْراج کی رات میرا گُزرسُرخ ٹیلے کے پاس سے ہوا (تو میں نے دیکھاکہ) حضرت ِموسیٰ علیہ الصَّلٰوۃُ والسَّلام اپنی قَبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں ۔‘‘(مسلم،کتاب الفضائل،باب من فضائل موسی ،ص۱۲۹۳، حدیث:۲۳۷۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ٍ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہماری موت اورحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری میں بہت فرق ہے جیساکہ غزالئی زَماں رازیٔ دَوراں حضرت علَّامہ مولانا احمد سعید کاظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْقَوِی تَحریر فرماتے ہیں :سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موت ہماری موت سے کئی اِعتبارات سے مختلف ہے۔