Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
127 - 645
اَنبیاء علیہمُ السَّلام اپنی قَبْروں  میں  زِندہ ہیں  
	صدرُالشَّریعہ ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علَّامہ مولانا مفتی محمداَمجد علی اَعظمی علیہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَوی تَحریر فرماتے ہیں:’’اَنبیاعَلَیہِمُ السَّلاماپنی اپنی قَبروں  میں  اُسی طرح بحیاتِ حقیقی زِندہ ہیں  ، جیسے دُنیا میں  تھے، کھاتے پیتے ہیں  ،جہاں  چاہیں  آتے جاتے ہیں  ، تصدیقِ وَعدۂ اِلٰہیہ کے لیے ایک آن کو اُن پر موت طاری ہوئی، پھر بدستور زِندہ ہوگئے، اُن کی حَیات، حیاتِ شُہدا سے بہت اَرْفَع و اَعلیٰ ہے فلہذا شہید کا ترکہ تقسیم ہوگا، اُس کی بی بی بعدِ عدت نکاح کرسکتی ہے بخلاف اَنبیا کے، کہ وہاں  یہ جائز  نہیں   ۔ ‘‘(بہارِ شریعت ،ج۱،ص۵۸)
	ایک اور مَقام پر اِرشاد فرماتے ہیں  :’’اَنبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام اور اَولیاء کرام و عُلمائے دِین و شُہدا و حافظانِ قرآن کہ قرآنِ مجید پر عمل کرتے ہوں  اور وہ جو مَنْصَبِمَحَبَّت پر فائز ہیں  اور وہ جسم جس نے کبھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی مَعْصِیت نہ کی اور وہ کہ اپنے اَوقات دُرُود شریف میں  مُستغر ق رکھتے ہیں  ، ان کے بَدن کو مَٹّی  نہیں   کھاسکتی۔ جو شخص اَنبیائے کرام عَلَیْہمُ السَّلام کی شان میں  یہ خبیث کلمہ کہے کہ مرکے مَٹّی میں  مل گئے ،گُمراہ ، بَددِین، خبیث ، مُرتکبِ توہین ہے ۔ ‘‘(بہارِ شریعت ،حصہ اول،ص۱۱۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد