Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
126 - 645
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں  کوشش کرکے باِلخُصُوص جُمُعۃ ُالمبارک کے دن دُرُود شریف کی کثرت کرنی چاہیے کہ اَحادیثِ مُبارَکہ میں  اِس روز کثرتِ دُرُود کی خاص طور پر تاکید کی گئی ہے جیسا کہ آپ نے ابھی سَماعت فرمایا۔ اور زَمین اَنبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام کے مُبارک جسموں  کو کیوں   نہیں   کھاتی ، اس کی اِیمان اَفروز تَوجِیہ بیان کرتے ہوئے حضرتِ علَّامہ عبدالرؤف مَنَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَویارشاد فرماتے ہیں  : ’’لِاَنَّہَا تَتَشَرَّفُ بِوَقْعِ اَقْدَامِہِمْ عَلَیْہَا وَتَفْتَخِرُ بِضَمِّہِمْ اِلَیْہَا فَکَیْفَ تَأْکُلُ مِنْہم،اسلئے کہ زمین اَنبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃ والسَّلام کے مُبارک قَدموں  کے بوسے سے مُشرَّف ہوتی ہے اور اسے یہ سَعادت ملتی ہے کہ َانبیائے کرام کے مُبارک اَجسام زمین سے مَس ہوتے ہیں  تو یہ اِن کے جسموں  کو کیسے کھا سکتی ہے ۔ (فیض القدیر،حرف الھمزۃ،۲/۶۷۸،تحت الحدیث:۲۴۸۰)
جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سَیِّد عالَم
اس خاک پہ قُرباں  دلِ شیدا ہے ہمارا		 (حدائقِ بخشش ،ص۳۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حدیثِ پاک سے معلوم ہواکہ اَنبیائے کرامعَلَیْھمُ الصَّلٰوۃ والسَّلام اپنے اپنے مَزاراتِ طَیبا ت میں  زِندہ ہیں  ۔ بَعض اَوقات اس مُعامَلے میں  مَردُود شیطان طرح طرح کے وَسوَسے ڈالتا ہے، آئیے اس حوالے سے کچھ سُننے کی سَعادت حاصل کرتے ہیں  ۔