Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
125 - 645
بیان نمبر:12
جُمُعہ کے دن دُرُودِ پاک کی کَثرت
	سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے: ’’اَکْثِرُوا الصَّلَاۃَ عَلَیََّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَاِنَّہٗ مَشْہُوْدٌ تَشْہَدُہُ الْمَلَائِکَۃُ وَاِنَّ اَحَدًا لَنْ یُّصَلِّیَ عَلَیَّ اِلَّا عُرِضَتْ عَلَیَّ صَلَا تُہُ حَتَّی یَفْرُغَ مِنْہَا،یعنی جُمُعہ کے دن مجھ پر کثرت سے دُرُود بھیجا کرو کیونکہ یہ یومِ مشہود (یعنی میری بارگاہ میں  فِرِشتوں  کی خُصُوصی حاضِری کا دن)ہے،اس دن فِرِشتے (خُصُوصی طو ر پر کثرت سے میری بارگاہ میں  )حاضِر ہوتے ہیں،جب کوئی شخص مجھ پر دُرُود بھیجتا ہے تو اس کے فارغ ہونے تک اس کا دُرُود میرے سامنے پیش کردیا جاتا ہے ۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا ابُو دَرْداء رضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہکا بیان ہے کہ میں  نے عرض کی: ’’(یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!) اور آپ کے وصال کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ارشاد فرمایا:’’ہاں  (میری ظاہری) وَفات کے بعد بھی (میرے سامنے اسی طرح پیش کیا جائے گا۔‘‘)’’اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ،یعنیاللّٰہ تعالیٰ نے زمین کیلئے اَنبیائے کرام علیھم الصَّلوۃ والسَّلام کے جسموں  کا کھانا حرام کر دیا ہے۔‘‘ فَنَبِیُّ اللّٰہِ حَیٌّ یُرْزَقُ،پس اللّٰہتعالیٰ کا نبی زِندہ ہوتا ہے اور اسے رِزْق بھی عطا کیا جاتا ہے۔‘‘(ابن ماجہ،کتاب الجنائز،باب ذکر وفاتہ…الخ، ۲/ ۲۹۱، حدیث:۱۶۳۷(
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد