مرتبہ سردیوں کی شام میں ہوٹل پرفلم دیکھنے جا رہا تھا کہ اچانک میری مُلاقات امام صاحب سے ہو گئی، انہوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ میں چونکہ شرکت نہیں کرنا چاہتا تھا لہٰذا بہانہ بنایا کہ سردی بہت ہے، میں گھر سے چادر لے آؤں ۔ میرا یہ کہناتھا کہ امام صاحب نے اپنی چادر اُتاری اور مجھے اوڑھا دی۔ میں نے چادر لینے سے اِنکار کیا مگر ان کے پُرخُلوص اصرار کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہی پڑے۔ میں حیران رہ گیا کہ اتنی سردی میں کوئی اس طرح بھی اِیثار کر سکتا ہے۔ بالآخر میں سُنَّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہو ہی گیا۔سُنَّتوں بھرے اجتماع کا رُوح پَرْوَر مَنْظر دیکھ کر میری تو آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ گئیں مجھے احساس ہوا کہ افسوس! میں تو فانی دنیاکی مَحَبَّت میں گم تھا۔ حقیقی زِندگی تویہ ہے جہاں زِندگی کا ہر رنگ اپنے اندر ہزاروں رَحمتیں و بَرَکتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ اجتماع میں ’’عِشْقِ مصطفیٰ‘‘ کے موضوع پر ہونے والے سُنَّتوں بھرے بیان نے میری آنکھوں سیغَفْلَت کے پردے دُور کر دیے۔ میں بے اِختیار رو پڑا۔ ذِکرُاللّٰہکے دوران مجھے ایسا سُکون ملا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا اِطمینان نہ ملا تھا اور آخر میں ہونے والی رِقَّت اَنگیز دُعا نے جیسے زنگ آلود دل کا میل اُتار دیا۔ میں نے رو رو کر اپنے گُناہوں سے توبہ کی۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے دل کی دُنیامیں مَدَنی انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ اجتماع کے اِختتام پر