Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
122 - 645
 پور شفٹ ہو گیا۔ یہاں  بھی اپنے فن کا خُوب مُظاہَرہ کیا اور جلد ہی شاگردوں  میں  اِضافہ ہونے لگا۔ اسی دوران میں  اسٹیج ڈرامے کروانے والی ایک مَقامی آرٹ کونسل کا رُکن بھی بن گیا۔ مجھے ڈراموں  میں  گانوں  اور ڈانس کے لئے مَدْعو کیا جاتا۔ اس طرح میں  لوگوں  سے خُوب دادِ تحسین حاصل کرتا۔ یوں  میرے شب وروز مزید گُناہوں  کی نَذر ہونے لگے۔ ان گُناہوں  میں  گھِرے ہونے کے باوجود کبھی کبھار نماز پڑھنے مسجد چلا جایا کرتا تھا۔ یہی نماز پڑھنا ہی میری اِصلاح کا سبب بنا۔ میری خُوش نصیبی کہ میں  جس مسجد میں  نماز پڑھتاتھا وہاں  کے امام صاحب دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے۔ میں  جب بھی مسجد جاتا وہ انتہائی ملنساری سے ملاقات فرماتے اورقَبرو آخرت کی تیاری کا ذِہن بناتے۔ ایک روز جب میں  امام صاحب سے ملنے گیا تو میری نظر اچانک ایک ضَخِیْم کتاب پر پڑی جس پر جلی حروف میں  ’’فَیضانِ سُنَّت‘‘ لکھا ہوا تھا۔ میں  نے اسے اُٹھایا اورمُطالَعہ کرنا شروع کر دیا، کتاب میں  لکھے ایمان اَفروز واقعات اور بالخُصوص دُرُود وسلام کے فَضائل پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ کتاب کا حَرف حَرف عشقِ رسول میں  ڈوبا ہوا تھا یہی وَجہ تھی کہ دل بھرہی  نہیں   رہا تھا۔ اب تو میری عادت بن گئی کہ روزانہ شام کے وقت امام صاحب کے پاس آتا اور دیر تک مُطالَعہ کرتا رہتا۔ اس طرح میری دُرُودِ پاک کی بھی عادت بن گئی۔ ایک