Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
118 - 645
مخلوقات سے پہلے تیرے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کینُور  کو اپنے نُور سے پیدا فرمایا۔‘‘  (المواہب اللدنیہ ،المقصدالاول،تشریف اللّٰہ تعالی لہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،۱ / ۳۶ )
تیری نسلِ پاک میں  ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانا نور کا 	(حدائقِ بخشش،ص۲۴۶)
چَمک تُجھ سے پاتے ہیں  
سب پانے والے
	بلکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو قاسِم نور ہیں  جسے چاہیں  پُرنُور کر دیں  ۔ چُنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا اَسِیدبن اَبی ایاس رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ خُوش نصیب صحابی ہیں  کہ مدینے کے تاجدار ،شَہَنْشاہِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک بار ان کے چِہرے پر ہاتھ پھیرا اوران کے سینے پر اپنا دَسْتِ  پُراَنوار رکھا تو کہا جاتا ہے کہ جب بھی وہ کسی تاریک گھر میں  داخِل ہوتے تو وہ گھر روشن و مُنوَّر ہوجاتا۔ (کنز العمال ،کتاب الفضائل،باب فی فضائل الصحابۃ ،۷/۱۲۳،الجزء الثالث عشر ،حدیث:۳۶۸۱۹، الخصائص الکبری،باب الآیۃ فی اثریدہ من الشفاء والبریق…الخ، ۲/۱۴۲) 
چَمک تجھ سے پاتے ہیں  سب پانے والے
  مرا دل بھی چَمکا دے چَمکانے والے	   (حدائقِ بخشش،ص۱۵۸)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ گُفْتُگوسے معلوم ہوا کہ حُضُور جانِ عالَم