Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
116 - 645
 جو اُنہوں  نے میری وِلادت کے وَقت دیکھا،’’وَقَدْ خَرَجَ لَہَا نُوْرٌ اَضَاءَتْ لَہَا مِنْہُ قُصُوْرُ الشَّامِ ،یعنی ان سے ایک نورِ ساطِع (چمکتاہوانور)ظاہر ہوا جس سے ملکِ شام کے ایوان وقُصور اُن کے لئے روشن ہوگئے۔ ‘‘
	حضرتِ سیِّدناشمس ُالدِّین محمدحافِظ شیرازی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْہادیبارگاہِ رسالت میں  عرض گزار ہیں  :
یَاصَاحِبَ الْجَمَالِ وَیَاسَیِّدَ الْبَشَر
مِنْ وَّجْھِکَ الْمُنِیْـرِ لَقـَدْ نُوِّرَ الْقـَمَر
	یعنی اے حُسن و جمال والی صلَّی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ واٰلہٖ وسلَّماور تمام انسانوں  کے سردار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بے شک آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نُورانی چہرے کی تابانی سے چاندکوروشن کیاگیا۔
سرکار کی بَشَرِیَّت کااِنکار کرنا کیسا؟
	بے شک ہمارے مَدَنی آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حقیقت نُور ہے مگر یہ یاد رکھئے !کہ مطلقًابَشَرِیَّت کے اِنکار کی اجازت  نہیں   ۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُالرَّحمٰن فرماتے ہیں  : ’’تاجدارِ رسالت، شَہَنْشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بَشَرِیَّت کا مُطْلقاً اِنکار کُفْر ہے ۔‘‘(فتاوٰی رضویہ،۱۴/ ۳۵۸) لیکن آپ کی بَشرِیَّت عام انسانوں  کی طرح  نہیں   بلکہ آپ سَیِّدُ الْبَشَر اوراَفْضَلُ الْبَشَرہیں  ۔