Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
115 - 645
وَسَلَّمکی شانِ نورٌ علیٰ نور کی بھی کیا بات ہے کہ چہرۂ اَقدس کی روشنی سے سوئی مل جاتی ہے ! مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالحنّان فرماتے ہیں  :’’رحمت ِ عالم ،نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بشربھی ہیں  اورنور بھی، یعنی نورانی بشر ہیں  ۔ ظاہری جسم شریف بشر ہے اور حقیقت نورہے ۔‘‘ (رسائل نعیمیہ، ص ۳۹،۴۰)
	قُربان جائیے! ہمارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نُورانیت کے کہ اس نور کے پیکر کی دُنیائے آب وگِل میں  جَلْوہ گری بھی اس شان سے ہوئی کہ چہار سُو روشنی کی کرنیں  بکھر گئیں ۔چنانچہ
ایوانِ شام روشن ہوگئے
	حضرتِ سیِّدُناعِرباض بن سارِیہ فرماتے ہیں  کہ آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’اِنِّیْ عِنْدَ اللّٰہِ مَکْتُوبٌ خَاتِمُ النَّبِیِّیْنَ ، وَإِنَّ اٰدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِینَتِہٖ،یعنی میں  اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھا بحا لیکہ حضرت  آدم کے  پُتلے کا خمیر ہورہا تھا (پھر فرمایا)وَسَاُخْبِرُکُمْ بِاَوَّلِ اَمْرِیْ ،میں  تمہیں  اپنے اِبتدائے حال کی خبر دوں ، دَعْوَۃُ اِبْرَاہِیمَ ، وَبِشَارَۃُ عِیسٰی، وَرُؤْیَا اُمِّی الَّتِیْ رَاَتْ حِیْنَ وَضَعَتْنِیْ یعنی میں  دُعائے ابراہیم ہوں ، بشارتِ عیسیٰ ہوں ، اپنی والدہ کے اس خَواب کی تَعْبِیْر ہوں