بیان نمبر:11
سوزَنِ گمشُدہ ملتی ہے تَبسُّم سے ترے
اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضی اﷲ تعالٰی عَنْہا سَحری کے وَقت کچھ سی رہی تھیں کہ اچانک سوئی گرگئی اور چَراغ بھی بُجھ گیا۔ اتنے میں رَحمتِ عالم،نورِ مجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے۔ چہرئہ اَنور کی روشنی سے سارا گھر روشن ہوگیا حتی کہ سوئی مل گئی۔اُمُّ الْمؤمِنین رَضی اللّٰہ تعالٰی عَنْھانے عرض کی: ’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کا چہرئہ انور کتنا روشن ہے ۔ ‘‘سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’وَیْلٌ لِّمَنْ لَّا یَرَانِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یعنی اس شخص کیلئے ہَلاکت ہے جو مجھے قیامت کے دن نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ عرض کی:’’وہ کون ہے جو آپ کو نہ دیکھ سکے گا۔‘‘فرمایا:’’وہ بَخیل ہے۔‘‘پوچھا :’’ بَخیل کون؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’ اَلَّذِیْ لَا یُصَلِّیْ عَلَیَّ اِذْ سَمِعَ بِاِسْمِیْ،جس نے میر انام سنا اور مجھ پر دُرُودِ پاک نہ پڑھا۔‘‘ (القول البدیع،الباب الثالث فی التحذیر من ترک الصلاۃ علیہ عندذکرہ، ص۳۰۲)
سُوزَنِ گُمشُدہ ملتی ہے تبسُّم سے ترے
شام کو صُبح بناتا ہے اُجالا تیرا (ذوقِ نعت،ص۱۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضور پُر نور ، شافع یوم النشورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ