(پ۱۵،بنی اسرائیل :۷۱) جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے ۔
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان علیہ رَحمۃُ الحنّان ’’نورُالعرفان‘‘ میں اس آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی صالح کو اپنا امام بنالینا چاہئے شَرِیْعَتمیں ’’تَقْلِیْد‘‘ کرکے اور طَریْقَت میں ’’بَیْعَت‘‘کرکے ، تاکہ حَشْر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح امام نہ ہوگا تو اس کا امام شیطٰن ہوگا۔ اس آیت میں تَقْلِیْد ، بَیْعَتاور مُریدی سب کا ثُبوت ہے۔ ‘‘(تفسیر نورالعرفان ،ص۷۹۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کے پرفِتن دور میں پیری مُریدی کا سلسلہ وسیع تر ضَرور ہے، مگر کامل اور ناقِص پیر کا اِمتیاز مُشکل ہے۔ یہ اللّٰہ عَزَّوجَلَّ کا خاص کرم ہے کہ وہ ہر دور میں اپنے پیارے مَحبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمَّت کی اِصلاح کیلئے اپنے اَولیاء کرام رَحِمہُم اللّٰہ السَّلام ضَرور پیدا فرماتا ہے۔ جو اپنی مومنانہ حِکمت وفَراست کے ذریعے لوگوں کو یہ ذہن دینے کی کوشش فرماتے ہیں کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے۔‘‘(اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ )
فی زمانہ مرشدِکامل کی ایک مثال بانیِ دعوتِ اسلامی، شیخ طریقت امیرِ اَہلسنَّت حضرتِ علامہ مولانا ابوبلا ل محمد الیاس عطّارقادری رَضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ