آپ کی ذات مرجعِ خَلائق تھی، مُریدین کے علاوہ بھی ہزاروں اَفراد آپ کی زِیارت و ملاقات کے لیے حاضِر ہوتے تھے۔آپ کے عام مُریدین کا تو کیا شُمار، خَواص کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی۔ یہاں تک کہ آپ کے فَیض یافتہ مُریدین میں سے بارہ ہزار چھ سو پینسٹھ (12665) تو ایسے کامل تھے کہ مقامِ ولایت پرمُتَمَکِّن ہوئے اور اپنی اپنی اِسْتعداد کے مُطابق قُربِ الہٰی کے اَعلیٰ مَقامات پر فائز ہوئے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بَیْعت کی اَہَمِّیَّت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تاریخِ اسلام کے مُطالَعے سے پتاچلتاہے کہ تقریباً تمام اولیاءے کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہ نے راہِ سُلُوک طے کرنے کیلئے کسی پیرِ کامل کے ہاتھ پر بَیعت کی بلکہ خود ہمارے گیارہویں والے آقا،سردارِ اولیاء حُضُور سَیِّدُناغوثِ اَعظم دَسْت گیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْقَدِیر نے بھی حضرت سَیِّدُناشیخ ابوسعید مُبارک مخزومی علیہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْقَوِی کے دستِ حق پرست پر بیعت فرمائی۔ہمیں بھی چاہیے کہ کسی نہ کسی جامعِ شرائط پیرِ کامل کے مُرید بن جائیں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قُرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔
یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِہِمْ ترجمہ کنزالایمان:جس دن ہم ہر