Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
110 - 645
77سال بعد بھی جسم سلامت تھا
	حضرتِ سَیِّدُنا شیخ محمد بن سلیمان جَزُوْلی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْقَوِینہ صرف خود رحمت ِ عالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود وسلام کی کثرت فرماتے تھے بلکہ آپ کے مرتَّب کردہ مجموعۂ درود ’’دَلائل الْخَیرات ‘‘کی مدد سے دنیا بھر میں  دُرُودو سَلام پڑھا جاتاہے ۔چنانچہ وصال کے ستتر (77) سال بعد جب آپ کو قَبر سے نکالا گیا تو آپ کا جسمِ مُبارک بالکل ترو تازہ تھا، جیسے آج ہی دَفن کیاگیاہو، اتنی طویل مُدَّت گزر جانے کے باوجود آپ کا جسم مُتَغَیَّر نہ ہوا تھا۔ آپ کی داڑھی اور سر کے بال ایسے تھے، جیسے آج ہی حجام نے آپ کی حَجامت بنائی ہو۔ایک شخص نے آپ کے چہرے کواُنگلی سے دبایا تو اس کی حیرت کی اِنتہا نہ رہی کہ اس جگہ سے خُون ہٹ گیا اور جب اُنگلی اُٹھائی تو خُون پھر اپنی جگہ لوٹ آیا، جیسے زِندوں  کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔ 
مزارِ پُر اَنوار سے کَسْتُوری کی خُوشبُو
	مراکش میں  آپ کا مزار مَرجعِ خَلائق ہے۔ مزار پر بڑے رُعب و جَلال کا سَماں ہے، لوگ زِیارت کے لیے جُوق در جُوق حاضِری دیتے ہیں  اور دَلائِلُ الْخَیْرات شریف کا بکثرت وِرْد ہوتاہے۔شاید یہ دُرُود شریف ہی کی برکت ہے کہ آپ کی قبرِ اَطہر سے کَستُوری کی مہک آتی ہے۔