میں غور کرنے سے عَقْلِ انسانی دَنگ رہ جاتی ہے۔
صاحبِ دَلائِلُ الْخَیْرات حضرتِ سَیِّدُناشیخ محمد بن سلیمان جَزُوْلی عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَوِیکا اِمتیازی وَصف عِشْقِ رسول صَلّٰی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے۔ آپ تَحدیثِ نعمت کے طور پر اپنے عشق کی کیفیت کو دَلائِلُ الْخَیْرات شریف میں یوں بیان فرماتے ہیں:’’وَنَفَیْتَ عَنْ قَلْبِیْ فِیْ ھٰذَاالنَّبِیِّ الْکَرِیْمِ الشَّکَّ وَالْاِرْتِیَابَ وَغَلَّبْتَ حُبَّہُ عِنْدِیْ عَلٰی حُبِّ جَمِیْعِ الْاَقْرِبَاءِوَ الْاَحِبَّاءِ، ’’یعنی اے اللّٰہ ! تو نے میرے دل کو اس نبیِّ کریم صَلّٰی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بارے میں ہر قسم کے شَک وشُبْہہ سے دُور رکھا ہے اور آپ کیمَحَبَّت کو میرے نزدیک تمام رِشتہ داروں اور پیاروں کیمَحَبَّت پر غالب کردیا ہے۔‘‘آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تعالی علیہکے عشقِ رسول کے نظارے دَلائِلُ الْخَیْرات شریف میں جا بجا دیکھے جا سکتے ہیں ۔
آپ کی ساری عُمر حُضُور نبیِّ کریم صَلّٰی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود پڑھتے، دُرُود شریف کی ترغیب دیتے اور دُرُود شریف کی نَشْرو اِشاعت میں گزری۔
دُرُود خواں کا بدن مٹی
نہیں کھا سکتی
صدرُ الشَّریعہ ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علَّامہ مولانا محمد اَمجد علی اَعظمی علیہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَویبہارِ شریعت جلد 1 صفحہ 114پر فرماتے ہیں :’’وہ لوگ کہ(جو) اپنے اَوقات دُرُود شریف میں مُستغرق رکھتے ہیں ان کے بدن کومَٹِّی نہیں کھاسکتی۔‘‘