الْخَیْراتشریف بُنْیادی طور پر دُرُود و سلام کا مَجمُوعہ ہے مگر اس کے ضِمن میں اللّٰہ تعالیٰ کی صِفات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ دُرُود پڑھنے والے کے دل میں اللّٰہ تعالیٰ کی عَظْمَت و شان اور اس کا جَلال وکَمال راسِخ ہو جاتا ہے۔
آپ ہمہ وَقت اَوْراد و وظائف میں مَشْغول رہتے، ہرمُعامَلہ میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف دھیان رکھتے، کتاب و سُنَّت پر سختی سے کاربند اور حُدُودِ الہٰی کی پاسبانی کرنے والے تھے، باِلاخر آپ کی نیکی اوربُزُرگی کی دُھوم مچ گئی اور خلقِ خدا آپ سے فَیضیاب ہونے لگی۔آپ دن رات میں ڈیڑھ قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے، بِسْمِ اللّٰہ شریف کا وَظِیفہ پڑھتے نیز شب و روز میں دو مرتبہدَلائِلُ الْخَیْرات ختم کرنابھی روز کے معمولات میں شامل تھا۔
حضرتِسَیِّدُنا شیخ محمد بن سلیمان جَزُوْلی عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَوی سلسلۂ شاذلیہ میں بَیْعَت کے بعد چودہ سال تک خَلْوَت گزیں رہ کر عِبادت و رِیاضت اور منازلِ سُلوک طے کرنے میں مشغول رہے۔ چودہ سالہ طویل خَلْوت کے بعد نیکی کی دَعوت کو عام کرنے اور خلقِ خُدا کی ہدایت کے لیے آپ نے جَلْوَت اِختیارکی ، آسِفی شہر کو آپ نے اپنی دینی سرگرمیوں کا مَرکز بنایا اورمُریدین کی تَربیت و ہِدایت کا کام سر اَنجام دینا شُروع کیا۔ بے شُمار لوگ آپ کے دَستِ حق پَرَست پر تائِب ہوئے اور آپ کا چرچا دُنیا بھر میں پھیل گیا، آپ سے بیشمار عظیم کرامات اور حیرت اَنگیز خَوارِق رُونما ہوئے، آپ کے مَناقب اورکَمالات