Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
107 - 645
اورنُزُولِ رَحمت کے لئے صاحبِ دَلائِلُ الْخَیْرات کا کچھ تذکرہ سُنتے ہیں  ۔ 
	صاحبِ دَلائِلُ الْخَیْرات فَنافی المُصْطفیٰ ، سَنَدُ الْاَصْفِیَا، عارفِ کامل ، قطبُ الاَقْطاب، وحیدُ الدَّہر، فَرید الْعَصر، شیخ ، امام ابُوعبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکا نامِ نامی اسمِ گرامی محمد، والد کا نام عبدالرحمن، جب کہ دادا کا اسمِ گرامی ابوبکر بن سلیمان ہے۔تاریخ میں  بہت سے ایسے بزرگ ملتے ہیں  جن کی نِسبت والد کی بجائے جَدِّاَعلیٰ کی طرف ہوتی ہے،حضرت سَیِّدُنا امام جَزُوْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ القوی کو بھی بالعموم ان کے والد کے دادا جان حضرتِ سلیمان کی طرف مَنْسُوب کر کے محمد بن سلیمان کہا جاتا ہے۔
	آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ ۸۰۷ ؁ھ بمطابق 1404؁ء کو ملکِ مراکش کے مقام’’ سَوس‘‘ میں  پیدا ہوئے۔آپ حَسَنیسَیِّدہیں  ، اکیس واسِطوں  سے آپ کا سلسلۂ نَسب حضرت سَیِّدُنا امام حَسَن مُجتبیٰرضی اللّٰہ تعالی عنہ سے ملتا ہے ۔ نیز آپ مَذْھباً مالکی (یعنی حضرتِ سَیِّدُنا امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق کے مُقَلِّد) اور مَشْرَباً(یعنی طریقت کے اِعتبارسے) شاذلی تھے۔ 
	حضرتِ سَیِّدُناامام محمد بن سُلیمان جَزُوْلی عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَویخُوش عَقیدہ بُزُرگ تھے جن کا تعلُّق اَہلِ سُنَّت و جماعت سے تھا۔آپ ذاتِ باری تعالیٰ کے حوالے سے بڑا ٹھو س عَقیدہ رکھتے تھے اور آپ نے جابجا اللّٰہتعالیٰ کی ذات و صِفات اور اس کی قُدْرتِ کاملہ کا بڑے حسین پیرائے میں  ذِکر کیا ہے۔ دَلائِلُ