Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
106 - 645
 نے کہا:’’ بیٹی! رسّی اور ڈَول۔ ‘‘اُس نے پو چھا: ’’آپ کا نام؟ ‘‘فرمایا: محمد بن سُلَیْمان جَزُوْلی۔ مَدَنی مُنّی نے حیرت سے کہا: ’’اچّھا آپ ہی ہیں  جن کی شُہْرت کے ڈَنْکے بج رہے ہیں  مگرحال یہ ہے کہ کُنویں  سے پانی  نہیں   نِکال سکتے! ‘‘یہ کہہ کر اس نے کُنویں  میں  تُھوک دیا۔ کمال ہوگیا! آناً فاناً پانی اُوپر آگیا اور کُنویں  سے چَھلکنے لگا۔ آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے وُضُو سے فراغت کے بعداُس باکمال مَدَنی مُنِّیسے فرمایا: ’’بیٹی! سچ بتاؤ تم نے یہ کَما ل کس طرح حاصِل کیا؟‘‘ کہنے لگی: ’’یہ اُس ذاتِ گرامی پر دُرُود پاک کی بَرَکَت سے ہواہے اگروہ جنگل میں  تشریف لے جائیں  تودَرندے، چرندے آپ کے دامَن میں  پناہ لیں ۔ ‘‘آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  : ’’اس باکمال مَدَنی مُنّی سے مُتَأَثِّر ہوکر میں  نے وہیں  عہد کیا کہ میں  دُرُود شریف کیمُـتَـعَلِّق کِتاب لکھوں  گا۔ ‘‘ (سعادۃ الدارین، الباب الرابع، اللطیفۃ الخامسۃ عشرۃ بعد المائۃ، ص۱۵۹ مفہوماً) چُنانْچِہ آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے دُرُود شریف کے بارے میں  کِتاب لکھی جو بَہُت مقبول ہوئی اور اس کِتاب کا نام ’’دَلائِلُ الْخَیْرات‘‘ ہے ۔  (حسینی دولہا،ص۱ )
صالِحِین کا ذِکْر باعثِ رَحْمت ہے
	حضرتِ سیِّدُنا سُفْیان بن عُیَیْنَہ رَحْمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  : ’’عِنْدَذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنْزِلُ الرَّحْمَۃُ،یعنی نیک لوگوں  کے ذِکر کے وَقت رَحمت نازِل ہوتی ہے۔‘‘ (حِلیۃُ الاولیاء، ۷/۳۳۵، رقم :۱۰۷۵۰) آئیے ہم بھی حُصُولِ بَرَکت