Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
105 - 645
کی قُوَّتِ سماعت وبَصارت بے مثال اور مُعْجزانہ شان رکھتی تھی۔ کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دُورو نزدیک کی آوازوں  کو یکساں  طور پر سن لیا کرتے ہیں  ۔ 
دُور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کان لَعلِ کرامت پہ لاکھوں  سلام		    (حدائقِ بخشش،ص۳۰۰)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں  چاہئے کہ ہم بھی تاجدارِ رسالت، شہنشا ہ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ بابرکت پر بکثرت دُرُود و سَلام پڑھتے رہا کریں  اور بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے فَیضیاب ہوتے رہیں  جو خُوش نصیب رحمتِ عالمیان ،مکّی مَدَنی سلطان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودِ پاک پڑھنے کے عادی ہوتے ہیں  ان پر نوازشات کی ایسی بارشیں  ہوتی ہیں  کہ دیکھنے والے مارے حیرت کے اَنگُشْت بَدنْداں  رہ جاتے ہیں  ۔ چُنانچہ اس ضِمن میں  ایک اِیمان اَفروز حکایت سُنئے اور مارے حیرت و مُسرت کے سر ُدھنئے۔
باکمال مَدَنی مُنّی
	حضرت سَیِّدُناشَیْخ محمد بن سُلَیْمان جَزُوْلی  عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْوَلِیْ فرماتے ہیں  : ’’میں  سَفَر میں  تھا، ایک مَقام پر نماز کا وَقْت ہو گیا، وہاں  کُنواں  تو تھا مگر رَسّی اور ڈَول نَدارَد (ڈول اور رَسّی موجود نہ تھی) میں  اسی فِکْر میں  تھا کہ ایک مکان کے اُوپر سے ایک مَدَنی مُنِّی نے جھانکا اور پوچھا:’’ آپ کیا تلاش کر رہے ہیں  ؟‘‘ میں