Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
104 - 645
بیان نمبر:10
سرکا ر اَہْل مَحَبَّت کا د ُرُود خُود سُنتے ہیں  
	سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے :’’اَسْمَعُ صَلَاۃَ اَھْلِ مَحَبَّتِیْ وَ اَعْرِفُھُمْ وَ تُعْرَضُ عَلَیَّ صَلٰوۃُ غَیْرِھِمْ عَرْضًا،یعنی اہلمَحَبَّت کادُرُود میں  خُود سنتا ہو ں  اور ا نہیں   پہچانتا ہوں  جبکہ دوسروں  کا دُرُود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔‘‘ (مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات ،ص ۱۵۹)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے پیارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قُوَّتِ سماعت اور علمِ غیب کی شان کے کیا کہنے کہ دُنیا کے کونے کونے میں  دُرُود شریف پڑھنے والے اہلِ مَحَبَّت کے دُرُود کو نہ صِرف سماعت فرماتے ہیں  بلکہ ا نہیں   پہچانتے بھی ہیں  ۔مُبارک کانوں  کی شانِ عالی نشان کو بیان کرتے ہوئے خود ارشاد فرماتے ہیں  :’’اِنِّیْ اَرٰی مَالَا تَرَوْنَ وَاَسْمَعُ مَالَا تَسْمَعُوْن،یعنی میں  ان چیزوں  کو دیکھتا ہوں  جن کوتُم میں  سے کوئی  نہیں   دیکھتا اور میں  ان آوازوں  کو سنتا ہوں  جن کو تُم میں  سے کوئی  نہیں   سنتا۔‘‘(الخصائص الکبریٰ،باب الآیۃ فی سمعہ الشریف، ۱/۱۱۳) 
اس حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم