اْلاٰخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ ،یعنی جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور آخِرت پر ایمان رکھتا ہو اُسے چاہئے کہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔‘‘ (بخاری ،کتاب الادب ،باب من کان یومن باللّٰہ والیوم الاخر… الخ،۴/۱۰۵،حدیث :۶۰۱۸ )
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں اپنی زبان کو ہر دَم ذِکر و دُرُود سے تَر رکھنے اور جسم کے تمام اَعضاء کا قفلِ مدینہ لگانے کی توفیق عطا فرما۔
مری زبان پر قفلِ مدینہ لگ جائے فُضُول گوئی سے بچتا رہوں سدا یارَبّ!
کریں نہ تنگ خیالا تِ بد کبھی کردے شُعُور وفکر کو پاکیزگی عطا یارَبّ!
بوقتِ نزع سلامت رہے مِرا ایماں
مجھے نصیب ہو کلِمہ ہے اِلتِجا یارب!
اٰمین بجاہِ النَّبِی اْلاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
فرمانِ مصطفیٰ
ثواب کی خاطِر اذان دینے والا اُس شہید کی مانند ہے جوخون میں لِتھڑا ہوا ہے اورجب مرے گا، قبر میں اس کے جسم میں کیڑے نہیں پڑیں گے۔
(الترغیب والترھیب ، ۱/ ۱۳۹،حدیث:۳۸۴)
٭…٭…٭…٭…٭…٭