ہمارے دِلوں کی سَختی کو دُورفرمائے کہ سَخت دلی فحش گوئی کی عَلامت ہے جیساکہ اللّٰہُ غنی کے پیارے نبی مکّی مَدَنی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’اَلْبَذَائُ مِنَ الْجَفَاءِوَالْجَفَاءُ فِی النَّار،یعنی فُحش گوئی سخت دِلی سے ہے اور سخت دِلی آگ میں ہے۔‘‘ (ترمذی، کتاب البروالصلہ،باب ماجاء فی الحیاء،۳/۴۰۶،حدیث:۲۰۱۶)
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مُفْتی احمد یار خان علیہ رَحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’یعنی جو شخص زَبان کا بے باک ہوکہ ہر بُری بھلی بات بے دَھڑک مُنہ سے نکال دے تو سمجھ لو کہ اس کا دل سخت ہے اس میں حیا نہیں ۔ سختی وہ دَرَخت ہے جس کی جَڑ انسان کے دل میں ہے اور اس کی شاخ دَوزخ میں ۔ ایسے بے دَھڑک انسان کا اَنجام یہ ہو تا ہے کہ وہ اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ) (اور)رسول (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی بارگاہ میں بھی بے ادب ہو کر کافر ہو جاتا ہے۔ (مراٰۃ،۶/۶۴۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خاموشی کی عادت بنانے کیلئے بُخاری شریف کی ایک حدیثِ پاک کو حفظ کر لیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کافی سَہولت رہے گی۔ وہ حدیثِ پاک یہ ہے :مدینے کے سلطان ،سرکارِ دو جہان،رحمتِ عالمیان َصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے: ’’مَنْ کَانَ ُیؤمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ