میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر! کیونکہ ہم تجھ سے وابَستہ ہیں اگر تو سیدھی رہے گی تو ہم سیدھے رہیں گے اگر تو ٹیڑ ھی ہوگی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔‘‘(ترمذی،کتاب الزہد ،باب ماجاء فی حفظ اللسان،۴/ ۱۸۳،حدیث: ۲۴۱۵ )
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں : ’’نَفْع نُقصان، راحت و آرام، تکالیف وآلام میں (اے زَبان!)ہم تیرے ساتھ وابَستہ ہیں اگر تُو خراب ہو گی ہماری شامت آجاوے گی تو دُرُسْت ہو گی ہماری عِزّت ہو گی۔ خیال رہے کہ زَبان دل کی تَرجُمان ہے اس کی اچّھائی بُرائی دل کی اچّھائی بُرائی کا پتا دیتی ہے۔ ‘‘(مراٰۃ، ۶/ ۴۶۵)
زَبان کی بے اِحتِیاطی کی آفتیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقِعی زَبان اگرٹیڑھی چلتی ہے تو بعض اَوقات فَسادات بر پا ہوجاتے ہیں ،اِسی زَبان سے اگر کسی کوبُرا بھلا کہا اوراُس کو غصّہ آگیا تو بعض اَوقات قتل و غارَ ت گری تک نوبت پَہنچ جاتی ہے۔ اِسی زَبان سے کسی مسلمان کوبِلااجازتِ شَرعی ڈانٹ دیا اور اُس کی دل آزاری کر دی تو یقینا اس میں گُنہگاری اور جہنَّم کی حَقْداری ہے۔
دل کی سَخْتی کا اَنجام
اللّٰہُرحمٰن عَزَّوَجَلَّ ہم پر رَحم فرمائے ہماری زبانو ں کو لگام نصیب کرے اور