میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حکایت میں جہاں کثرتِ دُرُود شریف کی ترغیب موجود ہے وہیں اس سے یہ دَرس بھی ملتا ہے کہ زبان جسمِ انسانی کا اَہم ترین عُضْو بھی ہے۔
زَبان مُفید بھی ہے مُضِر بھی
یاد رکھئے !زَبان کا صحیح اِستعمال کرنے کے بے شُمار فَوائد ہیں اور اگر یہی زَبان اللّٰہُرحمٰن عَزَّوَجَلَّ کی نافرمان بن کرچلی تو بَہُت بڑی آفت کا سامان ہے۔ مشہورصَحابی حضرتِ سَیِّدُنا عبداللّٰہبن مسعود رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ فرمانِ مصطَفٰیَّصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:’’اِنَّ اَکْثَرَ خَطَایَا ابْنِ اٰدَمَ فِیْ لِسَانِہٖ،انسان کی اکثر خطائیں اس کی زَبان میں ہوتی ہیں ۔‘‘ (شعب الایمان، باب فی حفظ اللسان، فصل فی فضل السکوت عمالایعنیہ ،۴ /۲۴۰،حدیث: ۴۹۳۳)
روزانہ صُبح اَعضاء زَبان کی خُوشا مد کرتے ہیں
حضرتِ سَیِّدُنا ابوسعید خُدْری رَضِی اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے: اِذَا اَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَاِنَّ الْاَعْضَاءَ کُلَّہَا ُتکَفِّرُ اللِّسَانَ فَتَقُوْلُ اِتَّقِ اللّٰہَ فِیْنَا فَاِنَّمَا نَحْنُ بِکَ، فَاِنِ اسْتَقَمْتَ اِسْتَقَمْنَا، وَاِنْ اَعْوَجَجْتَ اَعْوَجَجْنَا،یعنی جب انسان صُبح کرتا ہے تو اُس کے تمام اَعضاء زَبان کی خوشامد کرتے ہیں ، کہتے ہیں : ’’ہمارے بارے